الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ: «وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةٌ للنَّاسِ» باب: {وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} کی تفسیر
عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ اس آیت {وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} … اور ہم نے وہ منظر جو تجھے دکھایا، نہیں بنایا مگر لوگوں کے لیے آزمائش۔ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس منظر سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات کو دیکھا تھا۔
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] شَيْءٌ أُرِيَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَقَظَةِ رَآهُ بِعَيْنَيْهِ حِينَ ذَهَبَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ اس آیت {وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} … اور ہم نے وہ منظر جو تجھے دکھایا، نہیں بنایا مگر لوگوں کے لیے آزمائش۔ کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: کہ اس سے مراد وہ چیز ہے، جو حالت بیداری میں تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آنکھ کے ساتھ دیکھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المقدس کی جانب لے جایا گیا تھا۔