الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
باب: «وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ» باب: {وَمَا مَنَعَنَا اَنْ نُرْسِلَ بِالْآیَاتِ اِلَّا اَنْ کَذَّبَ بِہَا الْاَوَّلُوْنَ} کی تفسیر
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ فَيَزْدَرِعُوا فَقِيلَ لَهُ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَسْتَأْنِيَ بِهِمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤْتِيَهُمْ الَّذِي سَأَلُوا فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ قَالَ لَا بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً} [الإسراء: 59]۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے صفا پہاڑی کو سونے کی بنا دیں اور پہاڑوں کو ان سے دور کر دیں، تا کہ (جگہ ہموار ہو جائے اور) وہ کھیتی باڑ ی کر سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا: اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کو مہلت دے دیں اورچاہتے ہیں تو ان کے لیے ان کا مطالبہ پورا کر دیں، لیکن اگر مطالبہ پورا ہو جانے کے بعد بھی انہوں نے کفر کیا تو میں انہیں اس طرح ہلاک کر دوں گا، جس طرح ان سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں انہیں مہلت دیتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّآ اَنْ کَذَّبَ بِہَا الْاَوَّلُوْنَ وَاٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْا بِہَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا۔} … اور ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہم نشانیاں دے کر بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگوں نے انھیں جھٹلادیا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی واضح نشانی کے طور پر دی تو انھوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں دے کر نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کے لیے۔
اور کیا ہو جاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین شق ہو جاتی،یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے؟ (اس طرح کی نشانیاں دِکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان ابھی تک کفّار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر مایوس نہیں ہو گئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا؟ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کا رویّہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کر تو توں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔