حدیث نمبر: 8651
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِذْ شَخَصَ بِبَصَرِهِ ثُمَّ صَوَّبَهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يُلْزِقَهُ بِالْأَرْضِ قَالَ ثُمَّ شَخَصَ بِبَصَرِهِ فَقَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضَعَ هَذِهِ الْآيَةَ بِهَذَا الْمَوْضِعِ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} [النحل: 90]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نگاہ اٹھائی اور پھر نیچے جھکائی، اور قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین کے ساتھ لگا دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نگاہ اٹھائی اور فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے ہیں اور انھوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہ آیت فلاں سورت کے فلاں مقام پر رکھوں: {إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِیتَائِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ} … بے شک اللہ تعالیٰ عدل و احسان اور قرابتداروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم عبرت پکڑو۔

وضاحت:
َاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ} الآیۃ
{وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ} کی تفسیر
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء / حدیث: 8651
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، وشھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: )17918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18081»