الفتح الربانی
تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد— تفسیر، الانفال سے رعد
بَابُ:« وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۔۔۔» باب: {وَاَقِمِ الصَّلاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ … } کی تفسیر
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَخَذْتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ فَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا قَبَّلْتُهَا وَلَزِمْتُهَا وَلَمْ أَفْعَلْ غَيْرَ ذَلِكَ فَافْعَلْ بِي مَا شِئْتَ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَوْ سَتَرَ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ فَأَتْبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ فَقَالَ رُدُّوهُ عَلَيَّ فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِ {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: 114] إِلَى {لِلذَّاكِرِينَ} [هود: 114] فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَهُ وَحْدَهُ أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے باغ میں ایک عورت کو پکڑ لیا اور میں نے اس کے ساتھ ہر کام کیا ہے، بس صرف زنا نہیں کیا، میں نے اسے بوسہ دیا اور اس کے ساتھ چمٹا، اس کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اب میں حاضر ہوں، آپ جو چاہیں، مجھے سزا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کچھ نہ کہا اور وہ چلا بھی گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میںکہا: اللہ تعالیٰ نے تو اس پر پردہ ڈالا تھا، اگر وہ خود بھی پردہ ڈال لیتا،اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جانے والے کو پیچھے سے تک رہے تھے اور بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے واپس بلاؤ۔ پس جب اس کو لوٹایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر یہ آیت تلاوت کی: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ۔} … اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس اکیلے کے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب لوگوں کے لئے ہے۔
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) نَحْوُهُ) وَفِيهِ فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [هود: 114] قَالَ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً فَقَالَ بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ۔} … اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کیکچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس پر اس آیت کیتلاوت کی، سیدنا عمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس کے لئے خاص ہے یا سب لوگوں کے لئے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب لوگوں کے لئے عام ہے۔