الفتح الربانی
تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد— تفسیر، الانفال سے رعد
بَابُ: «قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ» باب: {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ} کی تفسیر
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ لُوطٍ {لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ} [هود: 80] قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا بُعِثَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوط علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {لَوْ أَ نَّ لِی بِکُمْ قُوَّۃً أَوْ آوِی إِلٰی رُکْنٍ شَدِیدٍ} … کاش کہ مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی قوت ہوتییا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا۔ (سورۂ ہود: ۸۰) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ (لوط علیہ السلام ) ایک مضبوط سہارے اپنے رب کی طرف آسرا پکڑتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے بعد اللہ تعالی نے جو نبی بھی بھیجا، اس کو اس کی قوم کے انبوہ کثیر میں بھیجا۔
لوط علیہ السلام کی مذکورہ بالا کا سیاق و سباق درج ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے: {وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓئَ بِھِمْ وَضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ ھٰذَا یَوْم’‘ عَصِیْب’‘۔ وَجَآئَہٗقَوْمُہٗیُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ قَالَ ٰیقَوْمِ ھٰٓؤُلَآئِ بَنَاتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُ لَکُمْ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُل’‘ رَّشِیْد’‘۔ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰتِکَ مِنْ حَقٍّ وَ اِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ۔ قَالُوْا ٰیلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَد’‘ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗمُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ۔ فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ۔ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۔} (سورۂ ہود: ۷۷ تا ۸۲)
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بے اختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں،یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟ انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا کاش! واقعی میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی،یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ انھوں نے کہا اے لوط! بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں،یہ ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ پائیں گے، سو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر چل نکل اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری بیوی۔ بے شک حقیقتیہ ہے کہ اس پر وہی مصیبت آنے والی ہے جو ان پر آئے گی۔ بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں۔ پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچا کر دیا اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قَالَ قَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَكِنَّهُ عَنَى عَشِيرَتَهُ فَمَا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَهُ نَبِيًّا إِلَّا بَعَثَهُ فِي ذُرْوَةِ قَوْمِهِ قَالَ أَبُو عُمَرَ فَمَا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا بَعْدُ إِلَّا فِي مَنْعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے : لوط علیہ السلام مضبوط قلعہ کی جانب جگہ پکڑتے تھے، ان کی مراد رشتہ دار تھے، پس اللہ نے اس کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجا، مگر اس کی قوم کے اعلی نسب سے۔ ابو عمر راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالی نے ان کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا، مگر اس کو اپنی قوم میں محفوظ کر کے۔