الفتح الربانی
تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد— تفسیر، الانفال سے رعد
بَابُ: «لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخرة» باب: {لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} کی تفسیر
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] فَقَالَ لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي أَوْ أَحَدٌ قَبْلَكَ قَالَ تِلْكَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَى لَهُ۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے : {لَہُمْ الْبُشْرَی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} … ایسے لوگوں کے لیے دنیوی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا، اس سے مراد نیک خواب ہے، جو نیک بندہ دیکھتا ہے یا اس کے لیے کسی کو دکھایا جاتا ہے۔
سن لو! بے شک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔ انھی کے لیے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں کے لیے کوئی تبدیلی نہیں،یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
اللہ تعالی کے اولیاء وہ ہیں، جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقوٰی اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقوٰی ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی، ایسے لوگ بروز قیامت بے خوف ہوں گے، غم و رنج سے ناآشنا ہوں گے، دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہو گا۔ ایسے لوگوں کی خوشی اور بشارت کا ایک سبب دنیا میں آنے والا نیک خواب بھی ہے۔