الفتح الربانی
تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد— تفسیر، الانفال سے رعد
بَابُ سَبَبٍ عَدْمٍ وُجُودِ الْبَسْمَلَةِ فِي أَوَّلِهَا باب: سورۂ توبہ اس سورت کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کے نہ لکھنے کی وجہ کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٍ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لَسْتُ بِاللَّسِنِ وَلَا بِالْخَطِيبِ قَالَ مَا بُدٌّ أَنْ أَذْهَبَ بِهَا أَنَا أَوْ تَذْهَبَ بِهَا أَنْتَ قَالَ فَإِنْ كَانَ وَلَا بُدَّ فَسَأَذْهَبُ أَنَا قَالَ فَانْطَلِقْ فَإِنَّ اللَّهَ يُثَبِّتُ لِسَانَكَ وَيَهْدِي قَلْبَكَ قَالَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَمِهِ۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سورۂ براء ت کا اعلان دے کر بھیجا تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نہ زیادہ زبان دان ہوں اور نہ ہی خطیب ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بغیر کوئی چارئہ کار نہیں ہے کہ میں خود جاؤں، یا پھر تم جاؤ۔ انھوں نے کہا: اگر کوئی چارۂ کار نہیں ہے تو پھر میں ہی چلا جاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم چلے جاؤ،اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو ثابت قدم رکھے گا اور تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے منہ پر رکھا۔