حدیث نمبر: 8615
عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٍ لِأَهْلِ مَكَّةَ لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُدَّةٌ فَأَجَلُهُ إِلَى مُدَّتِهِ وَاللَّهُ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ قَالَ فَسَارَ بِهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَقْهُ فَرُدَّ عَلَيَّ أَبَا بَكْرٍ وَبَلِّغْهَا أَنْتَ قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ بَكَى قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدَثَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ مَا حَدَثَ فِيكَ إِلَّا خَيْرٌ أُمِرْتُ أَنْ لَا يُبَلِّغَهَا إِلَّا أَنَا أَوْ رَجُلٌ مِنِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں امیر حج بنا کر بھیجا اوراہل مکہ سے اس براء ت کا اعلان کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا، کوئی آدمی برہنہ ہو کر طواف نہیں کرے گا، جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو گا، جو مسلمان ہو گا، جس شخص کا پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی خاص مدت تک کوئی معاہدہ پہلے سے ہوا ہو، وہ اپنی مدت کے اختتام تک برقرار رہے گا اور یہ کہ اللہ اور اس کا پیغمبر مشرکین سے بری ہیں۔ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اس پیغام کو لے کر روانہ ہوگئے اور تین دن کی مسافت طے کرچکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوبکر کو پیچھے سے جا ملو، انہیں میری طرف واپس کر دو اور یہ اعلان تم نے کرنا ہے۔ سو انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول!کیا میرے بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے کہ (مجھے واپس بلا لیا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بارے صرف خیر ہی پیش آسکتی ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ پیغام خود مجھے پہنچانا چاہیےیا میرے خاندان کے کسی آدمی کو۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا محفوظ متن حدیث نمبر (۸۶۱۸)میں آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد / حدیث: 8615
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، زيد بن يُثيع في عداد المجھولين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4»