الفتح الربانی
تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد— تفسیر، الانفال سے رعد
بَابُ: «مَا كَانَ لِنَبِيُّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسرى .... الخ » باب: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗ اَسْرٰی … الخ} کی تفسیر
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَذَكَرَ رَجُلًا عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالْأَمْسِ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّاسِ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ تَرَى أَنْ تَعْفُوَ عَنْهُمْ وَتَقْبَلَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ قَالَ فَذَهَبَ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ فِيهِ مِنَ الْغَمِّ قَالَ فَعَفَا عَنْهُمْ وَقَبِلَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [سورة الأنفال: ٦٨]۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ بدر کے دن قیدیوں کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر قدرت دی ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول!ان کی گردنیں اڑا دیتے ہیں، آپ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ مشورہ طلب کیا اور فرمایا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ نے یہ تمہارے قابو میں دے دئیے ہیں اور یہ کل تمہارے بھائی بننے والے ہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی گردنیں اڑا دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کی طرح اعراض کیا اور پھر لوگوں سے وہی بات ارشاد فرما کر مشورہ طلب کیا، اس بار سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا :اے اللہ کے رسول! میرا خیال ہے کہ آپ انہیں معاف کر دیں اور ان سے فدیہ قبول کر لیں۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک سے غم چھٹ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فدیہ لے کر ان کو معاف کر دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی: {لَوْلَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔} … اگر اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی بات نہ ہوتی، جو پہلے طے ہو چکی تو تمھیں اس کی وجہ سے جو تم نے لیا بہت بڑا عذاب پہنچتا۔