الفتح الربانی
تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد— تفسیر، الانفال سے رعد
بَابُ: «وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً» باب: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} کی تفسیر
عَنْ مُطَرِّفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا جَاءَ بِكُمْ ضَيَّعْتُمْ الْخَلِيفَةَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِهِ قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّا قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [سورة الأنفال: ٢٥] لَمْ نَكُنْ نَحْسَبُ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى وَقَعَتْ مِنَّا حَيْثُ وَقَعَتْ۔ مطرف کہتے ہیں: ہم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! کون سی چیز تم کو یہاں لائی ہے، تم نے خلیفہ راشد کو ضائع کر دیا ہے، حتیٰ کہ انہیں مظلوم شہید کردیا گیا ہے۔ اور پھر تم ان کے خون کا مطالبہ کرنے بیٹھ گئے ہو؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے عہد ِ نبوی، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان کی خلافتوں میں یہ آیت پڑھی تھی: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} … اس فتنہ سے ڈرو جو خاص طور پر صرف انہی لوگوں کو ہی نہیں پہنچے گا جو تم میں سے ظالم ہیں۔ یہ خیال تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم اس کی زد میں آ جائیں گے، بہرحال یہ واقع ہوا اور ہم پر واقع ہوا۔
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [سورة الأنفال: ٢٥] فَجَعَلْنَا نَقُولُ مَا هَذِهِ الْفِتْنَةُ وَمَا نَشْعُرُ أَنَّهَا تَقَعُ حَيْثُ وَقَعَتْ۔ (دوسری سند) حسن بصری کہتے ہیں:سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاصی تعدادمیں موجود تھے: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} … اور اس فتنے سے بچ جاؤ جو لازماً ان لوگوں کو خاص طور پر نہیں پہنچے گا جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا۔ اس وقت ہم نے کہا: یہ فتنہ کیا ہوتا ہے،پھر ہمیںپتہ بھی نہ چلا، لیکنیہ فتنہ واقع ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان،اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو صرف گنہگاروں اور بدکاروں پر ہی نہیں رہے گا، بلکہ اس بلا کی وبا عام ہوگی۔ اس سے مراد یا تو بندوں کا ایک دوسرے پر تسلط ہے، جو بلاتخصیص، عام و خاص پرظلم کرتے ہیں،یا وہ عام عذاب ہیں جو کثرت ِ بارش یا سیلاب وغیرہ ارضی و سماوی آفات کی صورت میں آتے ہیں اور نیک و بد سب ہی ان سے متاثر ہوتے ہیں،یا بعض احادیث میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے ترک کی وجہ سے عذاب کی جو وعید بیان کی گئی وہ مراد ہے۔