حدیث نمبر: 8606
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدْتُ مَعَهُ بَدْرًا فَالْتَقَى النَّاسُ فَهَزَمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَتْ طَائِفَةٌ فِي آثَارِهِمْ يَهْزِمُونَ وَيَقْتُلُونَ فَأَكَبَّتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ يَحْوُونَهُ وَيَجْمَعُونَهُ وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُصِيبُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ وَفَاءَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْغَنَائِمَ نَحْنُ حَوَيْنَاهَا وَجَمَعْنَاهَا فَلَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا نَصِيبٌ وَقَالَ الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ الْعَدُوِّ لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا نَحْنُ نَفَيْنَا عَنْهَا الْعَدُوَّ وَهَزَمْنَاهُمْ وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخِفْنَا أَنْ يُصِيبَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً وَاشْتَغَلْنَا بِهِ فَنَزَلَتْ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ [سورة الأنفال: ١] فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَوَاقٍ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَلَ الرُّبْعَ وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكُلَّ النَّاسِ نَفَلَ الثُّلُثَ وَكَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، میں غزوۂ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جب لوگوں کا مقابلہ ہوا تو اللہ تعالی نے دشمنوں کو شکست دی، لشکرِ اسلام میں سے کچھ لوگ دشمنوں کو شکست دیتے ہوئے اور ان کو قتل کرتے ہوئے ان کاپیچھا کرنے لگ گے اور ایک حصہ مالِ غنیمت پر ٹوٹ پڑا اور اس کو جمع کرنے لگا اور ایک حصے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرے میں لے لیا، تاکہ دشمن غفلت سے فائدہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے، یہاں تک کہ رات ہو گئی اور سارے لوگ لوٹ آئے، غنیمتیں جمع کرنے والوں نے کہا: ہم نے یہ مال جمع کیا ہے، کسی اور کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے، دشمن کا پیچھا کرنے والے گروہ نے کہا: تم لوگ ہم سے زیادہ اس مال کے مستحق نہیں ہو، ہم نے اس مال سے دشمن کو ہٹایا اور اس کو شکست دی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرنے والوں نے کہا: تم لوگ ہم سے زیادہ اس مال کا حق نہیں رکھتے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرے رکھا اور ہم ڈر گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن غفلت سے فائدہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نقصان پہنچا دے اور اس طرح ہم اُدھر مصروف رہے، پس اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {یَسْأَ لُونَکَ عَنْ الْأَ نْفَالِ، قُلْ الْأَ نْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ، فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَأَ صْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ} … وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کے فَوَاق کی مقدار کے برابر وقت میں اس مال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کی سرزمین میں حملہ کرتے تھے تو ایک چوتھائی حصہ زائد دیتے تھے اور اگر واپسی پر ایسا ہوتا ہے تو مجاہدین کی تھکاوٹ کی وجہ سے ایک تہائی حصہ زائد دیتے تھے، ویسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ لوگ زائد حصے کی حرص رکھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: قوی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کمزوروں کو زائد حصوں میں شریک کریں۔

وضاحت:
فوائد: … اونٹنی کا فَوَاق: یہ لفظ وقت کی ایک مقدار بیان کرتا ہے، اس کے یہ معانی ہیں: (۱)دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا وقت۔ (۲) دوہنے والے کے تھن کو دو دفعہ پکڑنے کے درمیان کا وقت۔ حدیث کے آخر میں ایک چوتھائی اور ایک تہائی کا مطلب یہ ہے کہ جب لشکر ِ اسلام اپنی جہت کی طرف جا رہا ہوتا اور بیچ میں سے ایک سریّہ کو الگ کر کے گرد و نواح کے کسی علاقے کی طرف بھیج دیا جاتا تو وہ جو مالِ غنیمت لے کر آتے، اس کا چوتھاحصہ ان کو زائد دیا جاتا، باقی تین حصے تمام مجاہدین میں برابر تقسیم کر دیئے جاتے، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خُمُس نکالا جاتا ہے، اگر جہاد سے واپسی پر یہی صورت حال پیش آتی تو ایک تہائی حصہ زائد دیا جاتا۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ مجاہدین کو زائد حصے کی حرص نہیں ہونی چاہیے اور اس معاملے میں ان کو ایثار کی راہ اختیار کرنی چاہیے تاکہ کمزور جنگجوؤں کو بھی قوی مجاہدین کی طرح حصہ مل سکے۔ نیز اس حدیث کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجاہدین کو ان کے زائد جہاد اور محنت کی وجہ سے زائد حصے تو دیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمنا یہ تھی کہ وہ لشکر ِ اسلام کے تمام افراد کو ترجیح دیتے ہوئے اپنا الگ حصہ وصول نہ کریں، تاکہ سب کو برابر حصہ مل سکے۔
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْأَنْفَالِ فَقَالَ فِينَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ حِينَ اخْتَلَفْنَا فِي النَّفْلِ وَسَاءَتْ فِيهِ أَخْلَاقُنَا فَانْتَزَعَهُ اللَّهُ مِنْ أَيْدِينَا وَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ بَوَاءٍ يَقُولُ عَلَى السَّوَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبادہ بن صامت سے انفال والی آیت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم بدر والوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، جب ہم نے مالِ غنیمت میں اختلاف کیا اور اس بارے میں ہم سے بداخلاقی ہونے لگی تو اللہ تعالی نے ہمارے ہاتھوں سے یہ چیز چھین لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کر دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8606
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 1561، وابن ماجه: 2852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23142»