الفتح الربانی
تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف— تفسیر، نساء سے الاعراف
بَابُ: «فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَل .... الخ » باب: {فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗلِلْجَبَلِ … الخ} کی تفسیر
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ [سورة الأعراف: ١٤٣] قَالَ قَالَ هَكَذَا يَعْنِي أَنَّهُ أَخْرَجَ طَرَفَ الْخِنْصَرِ قَالَ أَبِي أَرَانَا مُعَاذٌ قَالَ فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ ضَرْبَةً شَدِيدَةً وَقَالَ مَنْ أَنْتَ يَا حُمَيْدُ وَمَا أَنْتَ يَا حُمَيْدُ يُحَدِّثُنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَقُولُ أَنْتَ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗدَکًّا} … تو جب اس کا رب پہاڑ کے سامنے ظاہر ہوا تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔ کے بارے میں فرمایا: بس اس طرح ہوا تھا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھنگلیانگلی کا ایک کنارہ نکالا، جب معاذ نے ہمیں یہ کیفیت دکھائی تو حمید طویل نے کہا: اے ابو محمد! اس مثال سے تیری مراد کیا ہے؟ لیکن ابو محمد نے حمید کے سینے پر سخت ضرب لگائی اور کہا: حمید! تو کون ہے؟ تو کیا چیز ہے، حمید! مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تھا اور تو کہتا ہے کہ اس مثال سے تیری مراد کیا ہے۔
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ [سورة الأعراف: ١٤٣] قَالَ فَأَوْمَأَ بِخِنْصَرِهِ قَالَ فَسَاخَ۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالی کے اس فرمان{فَلَمَّا تَجَلَّی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ} کی وضاحت کرتے ہوئے چھنگلی انگلی سے اشارہ کیا، لیکن (اتنی سی تجلّی سے پہاڑ زمین میں دھنسگیا۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ابھی تک چھوٹی انگلی کے پورے کی مقدار کے برابر اللہ تعالی نے پہاڑ پر تجلی کی تھی، لیکن وہ اس کوبھی برادشت نہ کرسکا اور ریزہ ریزہ ہو گیا۔
پہاڑ کے ریزہ ریزہ ہونے والی بات تو قرآن مجید سے ثابت ہے۔ اس روایت میں اس کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر آیا ہے تو ممکن ہے کچھ حصہ ریزہ ریزہ ہوا اور کچھ زمین میں دھنس گیا۔ (عبداللہ رفیق)