الفتح الربانی
تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف— تفسیر، نساء سے الاعراف
بَابُ: «وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيمًا » باب: {وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا … } کی تفسیر
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ هَذِهِ سُبُلٌ قَالَ يَزِيدُ مُتَفَرِّقَةٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ [سورة الأنعام: ١٥٣]۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لئے ایک خط کھینچا اور ساتھ ہی فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں بائیں کئی خطوط کھینچے اور فرمایا۔ یہ جدا جدا راستے ہیں، ان میں سے ہر راستے پر شیطان ہے، جو اپنی طرف بلاتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {واَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ} … اور یہ کہ بے شک یہی میرا راستہ ہے سیدھا، پس اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمھیں اس کے راستے سے جدا کر دیں گے۔