حدیث نمبر: 8596
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ الْآيَةَ [سورة الأنعام: ٦٥] قَالَ هُنَّ أَرْبَعٌ وَكُلُّهُنَّ عَذَابٌ وَكُلُّهُنَّ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ فَمَضَتْ اثْنَتَانِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً فَأُلْبِسُوا شِيَعًا وَذَاقَ بَعْضُهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ وَثِنْتَانِ وَاقِعَتَانِ لَا مَحَالَةَ الْخَسْفُ وَالرَّجْمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ۔} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے، یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے، دیکھ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں، تاکہ وہ سمجھیں۔ پھر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ چار امور ہیں، چاروں عذاب کی صورتیں ہیں، سب نے لامحالہ طور پر واقع ہونا ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے پچیس برس بعد واقع ہو چکی ہیں، ایک یہ کہ لوگ فرقوں میں بٹ گئے اور دوسرا پھر انہوں نے ایکدوسرے کو عذاب بھی چکھایا، باقی دو نے بھی لا محالہ طورپر ہو کر رہنا ہے، اور وہ ہیں: زمین میں دھنسنا اور پتھروں کا برسنا۔

وضاحت:
فوائد: … اوپر سے عذاب کے آنے کی صورتیں: بارش کی کثرت، پتھر کا برسنا، امراء و حکام کا ظلم و ستم، نیچے سے عذاب کے آنے کی صورتیں: دھنسنا، زلزلہ، طوفانی سیلاب، ماتحتوں کی بددیانتی اور خیانت۔ باقی دو امور واضح ہیں کہ لوگ مختلف گروہوں اور جماعتوں میں بٹ کر ایکدوسرے کی گردنیں اڑائیں اور ایک دوسرے کو تکلیف دینا شروع کر دیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8596
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي جعفر الرازي ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 180 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21547»