حدیث نمبر: 8582
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [سورة المائدة: ٤٢] قَالَ كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا قَتِيلًا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ أَدَّوْا إِلَيْهِمْ نِصْفَ الدِّيَةِ وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ قَتِيلًا أَدَّوْا إِلَيْهِمْ الدِّيَةَ كَامِلَةً فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمُ الدِّيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَإِنْ جَائُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ أَ وْ أَ عْرِضْ عَنْہُمْ، وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ یَضُرُّوکَ شَیْئًا، وَإِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ، إِنَّ اللّٰہَیُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ} … پھر اگر وہ تیرے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کر، یا ان سے منہ پھیر لے اور اگر تو ان سے منہ پھیر لے تو ہرگز تجھے کچھ نقصان نہ پہنچائیں گے اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ تفصیل یہ ہے کہ جب بنو نضیر، بنو قریظہ کا بندہ قتل کر دیتے تو وہ نصف دیت دیتے اور جب بنو قریظہ، بنو نضیر میں سے کسی کو قتل کر دیتے تو یہ پوری دیت دیتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت کے معاملے میں ان کے مابین برابری کر دی۔

وضاحت:
فوائد: … بنو قریظہ اور بنو نضیر، دونوں یہودی قبیلے تھے، لیکن بنو نضیر کو زیادہ شرف و منزلت والا سمجھا جاتا تھا، اس لیے مقتول کے معاملے میں اس قدر فرق پایا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8582
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 3591، والنسائي: 8/ 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3434»