حدیث نمبر: 8581
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمٍ مَجْلُودٍ فَدَعَاهُمْ فَقَالَ أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ فَقَالُوا نَعَمْ قَالَ فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ وَلَوْلَا أَنَّكَ أَنْشَدْتَنِي بِهَذَا لَمْ أُخْبِرْكَ نَجِدُ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِنَا الرَّجْمَ وَلَكِنَّهُ كَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيفَ تَرَكْنَاهُ وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ فَقُلْنَا تَعَالَوْا حَتَّى نَجْعَلَ شَيْئًا نُقِيمُهُ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ فَاجْتَمَعْنَا عَلَى التَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِلَى قَوْلِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ يَقُولُونَ ائْتُوا مُحَمَّدًا فَإِنْ أَفْتَاكُمْ بِالتَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ فَخُذُوهُ وَإِنْ أَفْتَاكُمْ بِالرَّجْمِ فَاحْذَرُوا إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ قَالَ فِي الْيَهُودِ إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ [سورة المائدة: ٤١-٤٧] قَالَ هِيَ فِي الْكُفَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کو گزارا گیا، جس کا چہرہ کالا کیا گیا تھا اور اسے کوڑے لگائے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور اس سے فرمایا: میں تجھے اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اور اگر آپ نے مجھے یہ واسطہ نہ دیا ہوتا تو میں آپ کو نہ بتلاتا، ہم اپنی کتاب میں زنا کی حد رجم ہی پاتے ہیں، لیکن جب ہمارے اونچے طبقے والے لوگوں میں زنا عام ہو گیا تھا، تو جب ہم کسی اونچے آدمی کو پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ہم کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر یہی حد قائم کردیتے، پھر ہم نے اجلاس کیا اور یہ قانون پاس کیا کہ ہم ایسی حد تجویز کر لیں جو ہم بلند مرتبہ اور کم مرتبہ دونوں قسم کے لوگوں پر نافذ کر سکیں، پس ہم نے اس پر اتفاق کیا کہ کوڑے مار دئیے جائیں اور منہ کالا کر دیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیرا وہ بندہ ہوں، جس نے سب سے پہلے تیرے حکم کو زندہ کیا ہے، جبکہ یہودیوں نے اس کو چھوڑ رکھا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَیُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُہُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لَمْ یَاْتُوْکَیُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِہٖیَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ہٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا۔} … اے رسول! تجھے وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں دوڑ کر جاتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھوں نے اپنے مونہوں سے کہا ہم ایمان لائے، حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی بنے۔ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کو، بہت سننے والے ہیں دوسرے لوگوں کے لیے جو تیرے پاس نہیں آئے، وہ کلام کو اس کی جگہوں کے بعد پھیر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اگر تمھیں یہ دیا جائے تو لے لو اور اگر تمھیں یہ نہ دیا جائے تو بچ جاؤ۔ یہ یہودی آپس میں کہتے ہیں:تم محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس جاؤ،اگر وہ تمہیں یہ فتویٰ دیں کہ زانی کا منہ کالا کرو اور اسے کوڑے لگاؤ تو پھر ان کی بات مان لینا اور اگر و ہ رجم کا فتویٰ دیں تو پھر بچ کر رہنا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ} یہ یہودیوں کے بارے میں ہے اور {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ} اور {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ} یہ دو آیتیں کافروں کے بارے میں ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8581
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1700 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18724»