حدیث نمبر: 8569
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ [سورة النساء: ١٢٣] قَالَ إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ عَمَلِنَا هَلَكْنَا إِذًا فَبَلَغَ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ يُجْزَى بِهِ الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا فِي مُصِيبَةٍ فِي جَسَدِهِ فِيمَا يُؤْذِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یہ آیت تلاوت کی: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} … جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کی جزا دی جائے گی۔ اور پھر کہا: اگر ہمیں ہر برے عمل کا بدلہ ملا تو ہم تو مارے جائیں گے، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! (بدلہ تو ہر برے عمل کا ملتا ہے) لیکن ایمانداروں کو دنیا میں تکلیف دینے والی جو مصیبت لاحق ہوتی ہے، یہ ان (کے گناہوں کا) بدلہ ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کی ہر تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے یا اس کے لیے بلندیٔ درجات کاسبب بنتی ہے، بہرحال اللہ تعالی سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا چاہیے۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8569
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 4675، وابن حبان: 2923، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24872»