الفتح الربانی
تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف— تفسیر، نساء سے الاعراف
بَابُ: «لَيْسَ بِأَمَانِيكُمْ» باب: {لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ} کی تفسیر
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ [سورة النساء: ١٢٣] شَقَّتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَبَلَغَتْ مِنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْلُغَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَكُلُّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا وَالشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} … جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کی جزا دی جائے گی۔ تو یہ مسلمانوں پر بہت گراں گزری اور بہت زیادہ غمگین ہو گئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر چلتے رہو، مسلمان کو جو تکلیف بھی پہنچتی ہے، وہ اس کے لیے کفارہ بنتی ہے، یہاں تک کہ وہ مصیبت جو اسے لاحق ہوتی ہے اور وہ کانٹا جو اس کو چبھتا ہے۔