الفتح الربانی
تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف— تفسیر، نساء سے الاعراف
بَابُ : «وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنَا» باب: {وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} کی تفسیر
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ مَعَهُ غَنَمٌ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْكُمْ فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا [سورة النساء: ٩٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت بنو سلیم کے ایک آدمی کے پاس سے گزری، اس کے پاس بکریاں تھیں، اس نے ان صحابہ کرام کو سلام کہا، لیکن صحابہ نے کہا: یہ صرف تم سے پناہ لینے کے لیے سلام کہہ رہا ہے، انہوں نے اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریوں پر قبضہ کر لیا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان بکریوں کو لائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا} … اور جو تمھیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔