حدیث نمبر: 856
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: إِنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ وَهُوَ إِحْدَى خَالَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِتَغْتَسِلْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدہ خولہ بن حکیم سُلَمِیّہؓ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خالہ تھیں، نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جسے احتلام ہو جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غسل کرے گی۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت دونوں کو احتلام ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے جنابت والا غسل واجب ہو جاتاہے۔ احتلام کے لیے خواب کا آنا یا نہ آنا معتبر نہیں ہے، بلکہ کپڑے یا جسم پر تری یا داغ کا ہونا معتبر ہے، جب کسی کو نیند کے بعد اپنے جسم یا کپڑے پر احتلام کے اثرات نظر آ جائیں گے تو وہ غسلِ جنابت کرے گا، خواب کا آنا اس کے ذہن میں ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح اگر کسی کو اس قسم کا خواب تو آتا ہے، لیکن جسم یا کپڑے پر کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تو غسل فرض نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 856
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27856»