حدیث نمبر: 8553
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو وَلَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ [سورة النساء: ٣٢]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم عورتیں جہاد میں شرکت نہیں کرتیں اور ہماری وراثت کا حصہ بھی مردوں سے آدھا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبُوْا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبْنَ وَسْـئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِـیْمًا} … اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی سے اس کے فضل کا سوال کرنا چاہئے اور مرد و زن کو جن جن صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے، ان کو بروئے کار لانا چاہیے، جو نعمتیں اور اہلیتیں محض اللہ تعالی کی عنایت ہوں اور بن مانگے ملی ہوں، ان کے بارے میں تمنا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، مثلامرد کو بحیثیت مرد برتری دینا، جیسے جہاد، گواہی، میراث میں حصہ، نگہداشت، ولایت و ذمہ داری، اسی طرح عورت کو حیض اور نفاس جیسے عارضوں میں مبتلا کر کے اس کے مقام کو مزید کم کر دینا۔ یہ اللہ تعالی کی تقسیم ہے، اور یہی درست ہے، سو اس پر ہر ایک کو راضی ہونا چاہیے، بہرحال اچھے اور برے اعمال کی راہ کھلی ہے، جو چاہے آگے بڑھ سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف / حدیث: 8553
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فيه انقطاع بين مجاھد وام سلمة ۔ أخرجه الترمذي: 3022، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27272»