الفتح الربانی
أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول— تفسیر، اسبابِ نزول اور سورتوں کی ترتیب کے مطابق سورتوں اور آیتوں کے فضائل کے ابواب
بَابُ: «لَيَسُو سَوَاء » باب: {لَیْسُوْ سَوَائً}کی تفسیر
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ قَالَ وَأَنْزَلَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَتَّى بَلَغَ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ تُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ [سورة آل عمران: ١١٣-١١٥]۔ سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عشاء کو مؤخر کیا، پھر مسجد میں تشریف لائے، جبکہ لوگ نماز کا انتظار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اس وقت ان ادیان والوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جو اس وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہا ہو، ما سوائے تمہارے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کی ہیں: {لَیْسُوْا سَوَاء ً مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَائِمَۃٌیَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاء َ الَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُوْنَ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَاُولٰیِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔ وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّکْفَرُوْہُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌبِالْمُتَّقِیْنَ۔} … وہ سب برابر نہیں۔ اہل کتاب میں سے ایک جماعت قیام کرنے والی ہے، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے جلدی کرتے ہیں اور یہ لوگ صالحین سے ہیں۔ اور وہ جو نیکی بھی کریں اس میں ان کی بے قدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۱۳۔ ۱۱۵)