الفتح الربانی
أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول— تفسیر، اسبابِ نزول اور سورتوں کی ترتیب کے مطابق سورتوں اور آیتوں کے فضائل کے ابواب
بَابُ: «لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ » باب: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} کی تفسیر
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ [سورة آل عمران: ٩٢] وَمَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا [سورة البقرة: ٢٤٥] قَالَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَحَائِطِي الَّذِي كَانَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهَا لَمْ أُعْلِنْهَا قَالَ اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِكَ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} … تم ہر گز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے، تاآنکہ تم اپنی پسندیدہ چیزیں خرچ کرو اور {مَنْ ذَا الَّذِییُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا} … کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسن دے۔ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا فلاں فلاں جگہ والا باغ (مجھے سب سے زیادہ پسند ہے)، اگر ہمت ہوتی تو میں اس کو مخفی طور پر ہی صدقہ کرنا، کسی کو پتا نہ چلنے دینا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے اپنے رشتہ دار فقراء میں تقسیم کر دو۔
صحابہ کرام اپنے خون سے شجرِ اسلام کی آبیاری کرنے والی، آغوشِ نبوت کی پروردہ اور پاکیزہ ہستیاں تھیں، وہ اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام پر عمل کرنے کے نہ صرف سخت پابند تھے، بلکہ اسی میں اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ اللہ تعالی کا ایک فرمان سن کر اپنے بیش قیمت باغ کو اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کر دیا جائے۔ لیکن قربان جائیے محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت اور حکمت پر کہ صلہ رحمی کی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنے قیمتی مال کو قرابتداروں کی خاطر واپس لوٹایا جا رہا ہے۔