حدیث نمبر: 854
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ)) فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: تَرِبَتْ يَدَاكِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَعِيهَا، وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ، إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ أَشْبَهَ أَخَوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: جب عورت کو احتلام ہو جائے اور وہ پانی بھی دیکھ لے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہؓ نے اس خاتون سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: چھوڑ دے اس عورت کو، (یہ صحیح کہہ رہی ہے) اسی وجہ سے تو مشابہت ہوتی ہے، جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ ماموؤں کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچے کی مشابہت اس سے ہو جاتی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 854
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25117»