الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
بَابٌ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى مَنِ احْتَلَمَ إِذَا أَنْزَلَ باب: احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ امْرَأَةٍ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَأَتْ ذَلِكَ مِنْكُنَّ فَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ)) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: أَوَ يَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ، فَأَيُّهَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَ الْوَلَدُ))سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو اپنے خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت اس طرح کا خواب دیکھے اور پھر اسے انزال بھی ہو جائے تو وہ غسل کرے۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کے ساتھ بھی ایسے ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتاہے، ان میں سے جو سبقت لے جاتا ہے، اسی سے بچے کی مشابہت ہو جاتی ہے۔