حدیث نمبر: 8526
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ [سورة البقرة: ٢٨٤] وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ [سورة النساء: ١٢٣] فَقَالَتْ مَا سَأَلَنِي عَنْهُمَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ هَذِهِ مُتَابَعَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَبْدَ بِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ وَالشَّوْكَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةُ يَضَعُهَا فِي كُمِّهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا فَيَجِدُهَا فِي ضِبْنِهِ حَتَّى إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ امیہ سے مروی ہے کہ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان آیات کے بارے میں سوال کیا: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} اور {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا عمل کرے گا، اس کو اس کا بدلہ دیا جائے گا) سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب سے میں نے ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا، اس وقت سے اب تک کسی نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایاتھا: اے عائشہ! یہ اللہ تعالیٰ بندے کا مؤاخذہ کرتے رہتے ہیں، ان عوارض کے ذریعے جو بندے کو لاحق ہوتے رہتے ہیں، مثلاً: بخار ہو گیا، مصیبت آ گئی، کانٹا چبھ گیا،یہاں تک کہ وہ سامان، جو بندہ اپنی آستیں میں رکھتا ہے، پھر اس کو گم پانے کی وجہ سے پریشان ہو جاتا ہے، اتنے میں اسی اپنی پہلو یا بغل میں پا لیتا ہے،(بیماریوں اور پریشانیوں کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ مومن اپنے گناہوں سے اس طرح صاف ہو جاتا ہے، جس طرح سونے کی سرخ ڈلی صاف ہو کر بھٹی سے نکلتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب میں سورۂ بقرہ کی آخری تین آیات کا ذکر ہے، آیات کا مفہوم احادیث سے ہی واضح ہو رہا ہے، ضرورت کے مطابق مزید وضاحت بھی کر دی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8526
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف علي بن زيد بن جدعان، ولجھالة امية بنت عبد الله ۔ أخرجه الترمذي: 2991، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26359»