حدیث نمبر: 8525
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَبَكَى قَالَ أَيَّةُ آيَةٍ قُلْتُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ [سورة البقرة: ٢٨٤] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ حِينَ أُنْزِلَتْ غَمَّتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَمًّا شَدِيدًا وَغَاظَتْهُمْ غَيْظًا شَدِيدًا يَعْنِي وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا إِنْ كُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمْنَا وَبِمَا نَعْمَلُ فَأَمَّا قُلُوبُنَا فَلَيْسَتْ بِأَيْدِينَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ فَنَسَخَتْهَا هَذِهِ الْآيَةُ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ [سورة البقرة: ٢٨٥] إِلَى لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ [سورة البقرة: ٢٨٦] فَتُجُوِّزَ لَهُمْ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَأُخِذُوا بِالْأَعْمَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مجاہد کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس داخل ہوا اور کہا: اے ابو عباس! میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، انھوں نے یہ آیت پڑھی اور رو پڑے، انھوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: یہ آیت{لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ … } … اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام سخت غمزہ ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو ہلاک ہو گئے ہیں، اگرہماری باتوں اور اعمال کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ کیا جائے (تو یہ تو ٹھیک ہے)، اب ہمارے دل تو ہمارے قابو میں نہیں ہے۔ آگے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ پھر اس آیت نے اس آیت کے حکم کو منسوخ کر دیا{آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ … … لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} پس نفس کے خیالات کو معاف کر دیا گیا اور اعمال کا مؤاخذہ کیا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … ان آیات کا مضمون درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِی مَا حَدَّثَتْ بِہِ أَ نْفُسُہَا مَا لَمْ یَتَکَلَّمُوا أَ وْ یَعْمَلُوا بِہِ۔)) … بیشک اللہ تعالی نے میری امت سے ان امور سے تجاوز کیا ہے، جو نفسوں میں خیال آتے ہیں، جب تک وہ اس کے مطابق کلام نہ کریںیا عمل نہ کریں۔ (صحیح مسلم: ۱۸۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8525
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الطبراني: 10769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3070»