الفتح الربانی
أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول— تفسیر، اسبابِ نزول اور سورتوں کی ترتیب کے مطابق سورتوں اور آیتوں کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ آيَةِ الْكُرْسِيِّ باب: آیۃ الکرسی کے فضیلت کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ فِي سَهْوَةٍ لَهُ فَكَانَتِ الْغُولُ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ فَشَكَاهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَتْ فَقَالَ لَهَا فَأَخَذَهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنِّي لَا أَعُودُ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ قَالَ أَخَذْتُهَا فَقَالَتْ لِي إِنِّي لَا أَعُودُ فَأَرْسَلْتُهَا فَقَالَ إِنَّهَا عَائِدَةٌ فَأَخَذْتُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ تَقُولُ لَا أَعُودُ وَيَجِيءُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ فَيَقُولُ أَخَذْتُهَا فَتَقُولُ لَا أَعُودُ فَيَقُولُ إِنَّهَا عَائِدَةٌ فَأَخَذَهَا فَقَالَتْ أَرْسِلْنِي وَأُعَلِّمُكَ شَيْئًا تَقُولُ فَلَا يَقْرَبُكَ شَيْءٌ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوبٌ۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے گھر میں چبوترے پر تھا، ایک جن بھوت آتا اور (مال وغیرہ) لے جاتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جب اسے دیکھے تو کہنا بسم اللہ ! تو اللہ کے رسول کی بات قبول کر۔ جب وہ آیا تو میں نے اس سے یہی بات کہی اور اس کو پکڑ لیا، اس نے کہا: اب نہیں لوٹوں گا۔ پس میں نے اسے چھوڑ دیا،میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: قیدی کا کیا بنا۔ میں نے کہا: جی میں نے اسے پکڑ لیا تھا، جب اس نے دوبارہ نہ آنے کا وعدہ کیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پھر لوٹے گا۔ جب وہ پھر آیا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور دو تین مرتبہ پکڑ کر چھوڑ دیا، وہ ہر دفعہ یہی کہتا تھا کہ وہ نہیں لوٹے گا اور میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: قیدی نے کیا کیا؟ میں نے کہا:جی میں اسے پکڑتا ہوں تو وہ یہ کہتا ہے کہ وہ نہیں لوٹے گا، سو میں اسے چھوڑ دیتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: دیکھنا، وہ لوٹے گا۔ وہ تو واقعی آیا اور میں نے اس کو پکڑ لیا، اب کی بار اس نے کہا: مجھے جھوڑ دو، میں تمہیں ایسی چیز کی تعلیم دیتا ہوں کہ اس کی وجہ سے کوئی چیز تیرے قریب نہیں آئے گی، وہ آیۃ الکرسی ہے، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جھوٹا تو بہت ہے، لیکن تجھ سے اس نے سچ بولا ہے۔
فوائد: … آیۃ الکرسی اور اس کا ترجمہ: {اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْـحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہ سِـنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ لَہٗمَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِیْیَشْفَعُ عِنْدَہٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖیَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْء ٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓاِلَّابِمَاشَائَوَسِعَکُرْسِـیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَا یَئـــُـــوْدُہ حِفْظُہُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔} … اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے کچھ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ کوئی نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۵)
آیۃ الکرسی عظیم ترین آیت ہے، اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے کلام میں اپنا تعارف پیش کیا ہے، اس سورت کی مختلف فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور مختلف مواقع پر اس کو تلاوت کرنا مسنون ہے، مثلا صبح و شام، رات کو سوتے وقت، ہر فرضی نماز کے بعد، وغیرہ۔