حدیث نمبر: 8520
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَرَدَّدَهَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ آيَةُ الْكُرْسِيِّ قَالَ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سوال کیا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت سے سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں،لیکن آپ نے یہ سوال کئی بار دہرایا، بالآخر میں نے کہا: وہ آیۃ الکرسی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو منذر! تجھے تیرا علم مبارک ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں،یہ عرش کے پائے کے پاس اللہ بادشاہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کو ظاہری معنی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8520
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 810 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21602»