حدیث نمبر: 8519
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّلِيلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ النَّاسَ حَتَّى يُكْثَرَ عَلَيْهِ فَيَصْعَدَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَيُحَدِّثَ النَّاسَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [سورة البقرة: ٢٥٥] قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ أَوْ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ يَهْنِيكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمَ الْعِلْمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو سلیل سے مروی ہے کہ ایک صحابی لوگوں کو احادیث بیان کرتا، یہاں تک کہ جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو وہ گھر کی چھت پر چڑھ کر لوگوں کو احادیث سنانے لگا، ایک حدیث یہ تھی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: قرآن مجید میں کونسی آیت سب سے عظمت والی ہے؟ ایک آدمی نے جواب دیا اور کہا: {اَللَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} یعنی آیۃ الکرسی،یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھا، اس نے کہا:میں نے اپنے سینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کی،یا اس صحابی نے یوں کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا اور میں نے اپنے کندھوں کے مابین اس کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو منذر! تجھے یہ علم مبارک ہو، یہ واقعی علم ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ صحابی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے پتہ چل رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8519
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه مسلم: 810 من حديث ابي، وھو الحديث الآتي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20864»