حدیث نمبر: 8516
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَاجَةِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ [سورة البقرة: ٢٣٨] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں نماز کے دوران اپنی ضرورت کی بات کر سکتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: {وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} … اور اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ پس ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … قَانِتِیْنَ کے دو معانی ہیں: اطاعت گزار، خاموش ہو کر۔ شروع شروع میں نماز میںخارجی کلام کرنا جائز تھا، بعد میں مذکورہ بالا اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر احادیث کے ذریعے نماز میں کلام کرنے کو حرام قرار دیا گیا، اس مسئلہ میں اس بات پر تواہل علم کا اتفاق ہے کہ جان بوجھ کر کلام کرنے والی کی نماز باطل ہو گی، بشرطیکہ اسے اس مسئلہ کا علم ہو، البتہ اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو بھول کر یا جہالت کی بنا پر نماز میں کلام کرتا ہے، راجح مسلک یہ ہے کہ ایسے شخص کی نماز متأثر نہیں ہو گی، امام مالک، امام شافعی،امام احمد اور جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔ اس مسلک کے دلائل درج ذیل ہیں: (۱)سیدنامعاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہالت کی وجہ سے کلام کرنے والے کو اس مسئلہ کی تعلیم دی اور اسے نماز دوہرانے کا حکم نہیں دیا، جبکہ اس وقوعہ سے پہلے نماز میں کلام کرنے کی حرمت کا حکم آچکا تھا۔ دیکھیں حدیث نمبر (۱۸۸۷)
(۲) ذوالیدین کے قصے پر مشتمل حدیث، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھول کر ظہر یا عصر کی دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور باتیں بھی کیں، لیکن اس کے باوجود مزید صرف دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ اگر بھول کر کلام کرنے سے نماز باطل ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی دو رکعتوں کو باطل قرار دے کر از سرِ نو چار رکعت نماز ادا کرتے۔ یہ واقعہ سات سن ہجری کے بعد پیش آیا، جبکہ دو سن ہجری سے پہلے نماز میں کلام کرنا حرام ہو چکا تھا،ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۹۸۹)
(۳)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِیَ الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ وَمَا اسْتُکْرِھُوْا عَلَیْہِ۔)) … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی نے میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس پر اس کو مجبور کر دیا جائے، کا گناہ اٹھا دیا ہے۔ (ابن ماجہ: ۲۰۴۳)
لیکن امام ابوحنیفہ اور بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام کرنے سے نماز باطل ہو جائے گی، انھوں نے اپنے حق میں وہ عام دلائل پیش کیے ہیں، جن کا تذکرہ اس باب میں ہوا ہے۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ جب ان دلائل کے بیان کے بعد والے واقعات میں بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام کی گئی اور نماز پر بطلان کا حکم نہیں لگایا گیا تو اِن خاص احادیث کی روشنی میں مسئلہ کو سمجھنا چاہیے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگر کوئی روزے دار رمضان میں بھول کر کھا پی لیتا ہے تو اہل الحدیث کی طرح احناف کے ہاں بھی اس سے روزہ متأثر نہیں ہوتا، حالانکہ نماز میں کلام کرنے کی طرح فرضی روزے کی حالت میں کھانا پینا بھی حرام ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نماز میں بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام ہو جائے تو نماز متأثر نہیں ہو گی، وگرنہ باطل ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8516
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1200، 4534، ومسلم: 539 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19493»