حدیث نمبر: 8514
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَتْ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَقْرَأَهَا لَمْ يَنْسَخْهَا اللَّهُ فَأَنْزَلَ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى [سورة البقرة: ٢٣٨] فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ كَانَ مَعَ شَقِيقٍ يُقَالُ لَهُ أَزْهَرُ وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ قَالَ قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت اتری {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ}تو جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں اس کی تلاوت کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ نہیں کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کر دی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی}۔ شقیق راوی کے ساتھ ایک آدمی تھا، اس کا نام ازہر تھا، اس نے سیدنا براء سے دریافت کیا: نمازِ وسطیٰ سے مراد نمازِعصر ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ آیت کس طرح نازل ہوئی اور کس طرح منسوخ ہوئی، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … اس روایت کے الفاظ لَمْ یَنْسَخْہَا اللّٰہُ، فَأَ نْزَلَ کے بجائے صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ثُمَّ نَسَخَہَا اللّٰہُ، فَأَ نْزَلَ (پھر اللہ تعالی نے اس کو منسوخ کر دیا اور یہ آیت نازل کی) یعنی پہلے نازل ہونے والی آیت میں وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ کے الفاظ تھے اور اس کے بعد نازل ہونے والی آیت میں وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی کے الفاظ تھے۔ سیدنا برائ رضی اللہ عنہ نے سائل کے سامنے دونوں آیات پیش کر کے معاملہ اس کے فہم پر چھوڑ دیا، وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ کی جگہ پر وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی کے الفاظ نازل کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نمازِ عصر ہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8514
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 630 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18876»