حدیث نمبر: 8512
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا قَالَ فَنَزَلَتْ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى [سورة البقرة: ٢٣٨] وَقَالَ إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھاتے تھے اور یہی نماز صحابہ کرام پر سب سے زیادہ سخت تھی، پس یہ آیت نازل ہوئی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی} … نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر افضل نماز کی۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: کیونکہ دو نمازیں اس سے پہلے ہیں اور دو نمازیں اس کے بعد ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … صلاۃ وسطی کے معانی افضل نماز کے ہیں۔ اس حدیث سے واضح طور پر یہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ الصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی سے مراد نماز ظہر ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ نمازِ ظہر حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ کے عام حکم میں داخل ہو، بہرحال سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ اس سے مراد نمازِ ظہر ہے، لیکن دوسری مرفوع روایات میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اس سے مراد نمازِ عصر ہے۔ اس باب میں درج ذیل آیت کا بکثرت استعمال ہو گا، اس لیے اس کو ترجمہ سمیت ذہن نشین کر لیں: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَقُومُوْا لِلّٰہِ قَانِتِینَ} … نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر نمازِ وسطیٰ کی اور اللہ تعالی کے لیے مطیع ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ (سورۂ بقرہ: ۲۳۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8512
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح أخرجه ابوداود: 411 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21931»