الفتح الربانی
أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول— تفسیر، اسبابِ نزول اور سورتوں کی ترتیب کے مطابق سورتوں اور آیتوں کے فضائل کے ابواب
بَابُ: «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ۔۔۔۔۔۔ » باب: {یَسْاَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ … } کی تفسیر
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ [سورة البقرة: ٢١٩] قَالَ فَدُعِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى [سورة النساء: ٤٣] فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقَامَ الصَّلَاةَ نَادَى أَنْ لَا يَقْرَبَنَّ الصَّلَاةَ سَكْرَانُ فَدُعِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ فَدُعِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا بَلَغَ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ [سورة المائدة: ٩١] قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انْتَهَيْنَا انْتَهَيْنَا۔ ابو میسرہ کہتے ہیں: جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے اللہ! ہمارے لئے شراب کے بارے میں واضح اور تسلی بخش حکم بیان فرما، پس سورۂ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی: {یَسْأَ لُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ} … لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، ان سے کہہ دو ان میں بڑا گناہ ہے۔ سیدنا عمرکو بلایا گیا اور ان پر یہ آیت پڑھی گئی، لیکن انھوں نے کہا: اے میرے اللہ ! ہمارے لئے شراب کے بارے میں واضح اور تسلی بخش حکم نازل فرما۔ پس سورۂ نساء والی آیت نازل ہوئی {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّـلَاۃَ وَ أَ نْتُمْ سُکَارٰی} … اے ایماندارو! جب نشہ میں مست ہو تو نماز کے قریب نہ آیا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مؤذن جب نماز کے لیے اقامت کہنے لگتا تو وہ یہ آواز دیتا کہ کوئی نشے والا آدمی نماز کے قریب نہ آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور یہ آیت ان پر پڑھی گئی۔ لیکن اب کی بار بھی انھوں نے کہا: اے میرے اللہ! شراب کے بارے میں واضح اور تسلی بخش حکم فرما۔ بالآخر جب سورۂ مائدہ والی آیت نازل ہوئی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی اور جب پڑھنے والا ان الفاظ {فَہَلْ أَ نْتُمْ مُنْتَہُونَ} پر پہنچا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پکار اٹھے: اے ہمارے ربّ! ہم باز آ گئے ہم باز آ گئے۔
بَابُ: {وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ}