الفتح الربانی
أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول— تفسیر، اسبابِ نزول اور سورتوں کی ترتیب کے مطابق سورتوں اور آیتوں کے فضائل کے ابواب
بابُ: «عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ۔۔۔» باب: {عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ … } کی تفسیر
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّاسُ فِي رَمَضَانَ إِذَا صَامَ الرَّجُلُ فَأَمْسَى فَنَامَ حَرُمَ عَلَيْهِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالنِّسَاءُ حَتَّى يُفْطِرَ مِنَ الْغَدِ فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ سَهِرَ عِنْدَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَدْ نَامَتْ فَأَرَادَهَا فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ نِمْتُ قَالَ مَا نِمْتِ ثُمَّ وَقَعَ بِهَا وَصَنَعَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ مِثْلَ ذَلِكَ فَغَدَا عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ [سورة البقرة: ١٨٧]۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (شروع شروع میں) جب لوگ رمضان میں روزہ رکھتے اورآدمی شام ہو جانے یعنی غروب ِ آفتاب کے بعد سوجاتا تو اس پر کھانااور پینا اور بیویاں حرام ہو جاتیں،یہاں تک کہ وہ دوسرے دن افطار کرتا۔ ایک رات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جاگتے رہے اور (دیر سے) اپنے گھر کو لوٹے، جب وہ پہنچے تو بیوی کو دیکھا کہ وہ سوگئی ہے، جب انھوں نے اس سے صحبت کرنا چاہی تو اس نے کہا: میں تو سو گئی تھی (لہٰذا اب صحبت جائز نہیں رہی)، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نہیں سوئی تھی، پھر انھوں نے حق زوجیت ادا کر لیا، اُدھر سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی کیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے فعل سے مطلع کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {عَلِمَ اللّٰہُ أَ نَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَ نْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ}
سیدنا برائ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَمَّا نَزَلَ صَوْمُ رَمَضَانَ کَانُوا لَا یَقْرَبُونَ النِّسَائَ رَمَضَانَ کُلَّہُ وَکَانَ رِجَالٌ یَخُونُونَ أَ نْفُسَہُمْ فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ {عَلِمَ اللّٰہُ أَ نَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَ نْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ} … جب رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو لوگ پورے رمضان میں اپنی بیویوں کے قریب تک نہیں جاتے تھے، لیکن کچھ اپنے آپ سے خیانت کرتے تھے، پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کردی: اللہ تعالی نے جان لیا کہ تم اپنی نفسوں سے خیانت کرتے ہو، اس لیے اس نے تمہاری طرف رجوع کیا اور تم کو معاف کر دیا۔ (صحیح بخاری: ۴۱۴۸)
یقینایہ مشکل عمل تھا کہ افطاری کے بعد عشاء کی نماز سے یا اس سے پہلے نیند آ جانے سے لے کر دوسرے دن غروب ِ آفتاب تک روزے کی پابندیوں کا خیال رکھا جائے، بہرحال صحابۂ کرام کی کثیر تعداد نے اس پر عمل کیا، جب چند صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ سے ان پابندیوں کے معاملے میں سستی ہوئی تو اللہ تعالی نے ساری رات کھانے پینے وغیرہ کی رخصت دے دی اور سحری کے کھانے کی گنجائش پیدا کر دی۔