الفتح الربانی
أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول— تفسیر، اسبابِ نزول اور سورتوں کی ترتیب کے مطابق سورتوں اور آیتوں کے فضائل کے ابواب
بَابُ : «قَدْ نَرى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ..» باب: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ … } کی تفسیر
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ وَكَانَ يُحِبُّ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} الْآيَةَ قَالَ فَمَرَّ رَجُلٌ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالَ فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سولہ سترہ ماہ بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھی، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کی جانب متوجہ کر دیا گیا اور آپ کی پسند بھی یہی قبلہ تھا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:{قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} … تحقیق ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی جانب پلٹتا ہوا دیکھتے ہیں، ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیریں گے جسے تو پسند کرتاہے، پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی جانب پھیر لو۔ ایک آدمی،جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر ادا کی تھی، انصاری قوم کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس نے کہا: میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کی جانب منہ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، وہ لوگ اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے، جبکہ وہ رکوع کی حالت تھے۔
تحویل قبلہ کا حکم ظہر کی نماز کے وقت اترا: اس بارے اختلاف ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم کس مسجد میں نازل ہوا تھا۔ بعض مسجد نبوی بتاتے اور دیگر اہل علم بنی سلمہ کی مسجد ذکر کرتے ہیں۔ دوسری رائے درست ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی سلمہ کے محلہ میں گئے تھے وہاں نماز کا وقت ہوا، آپ نماز پڑھا رہے تھے کہ تحویل قبلہ کا حکم ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے دوران حکم کی تعمیل کی اور یہ ظہر کی نماز تھی، اسی مناسبت سے مسجد بنی سلمہ کو مسجد قبلتین کہتے ہیں۔ بنی حارثہ محلے میں نماز عصر کے دوران یہ خبر پہنچی تو انہوں نے بھی عین نماز کے دوران قبلہ تبدیل کیا۔ مسجد قباء میں فجر کی نماز کے دوران اطلاع پہنچی تو انہوں نے بھی اسی حالت میں قبلہ تبدیل کیا۔ اس کی تفصیل دیکھیں مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد از ڈاکٹر محمد الیاس عبدالغنی ص ۵۳، فتح الباری: ج۱ ص ۵۰۳۔ (عبداللہ رفیق)