حدیث نمبر: 8493
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَتْ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً فَنَادَى أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالَ فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} … تحقیق ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی جانب پلٹتا ہوا دیکھتے ہیں، ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیریں گے جسے تو پسند کرتا ہے، پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی جانب پھیر لو۔ تو ایک آدمی بنو سلمہ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ لوگ فجر کی نماز میں حالت رکوع میں تھے اور ایک رکعت انہوں نے پڑھ لی تھی، اس گزرنے والے نے آواز دی: خبردار! قبلہ تبدیل ہو چکا ہے، خبردار! قبلہ تبدیل ہو چکاہے اور اب کعبہ قبلہ ہے، تو وہ اسی حالت میں قبلہ کی طرف مڑ گئے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ مسجد ِ قباء کا واقعہ ہے، یعنی قباء والوں کو نماز ِ فجر میں تحویلِ قبلہ کی خبر پہنچی تھی۔ نسخ کی سب سے پہلی مثال قبلہ کی تبدیلی ہے، بنوسلمہ کے اس باشندے کا نام سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اخبار الآحاد قبول کرنا واجب ہے، کیونکہ قبلہ کی تبدیلی کے بارے میں خبر دینے والا صرف ایک آدمی تھا، لیکن لوگوں نے اس کی بات پر اتنا اعتبار کیا کہ نماز کے اندر ہی قبلہ تبدیل کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8493
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14079»