الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
بَابٌ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى مَنِ احْتَلَمَ إِذَا أَنْزَلَ باب: احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ مُجَاوِرَةَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَيْهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا فِي الْمَنَامِ يَقَعُ عَلَيْهَا أَعَلَيْهَا غُسْلٌ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! فَضَحْتِ النِّسَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، وَإِنَّا إِنْ نَسْأَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَمَّا أَشْكَلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ نَكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: ((أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ، نَعَمْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! عَلَيْهَا الْغُسْلُ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ)) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَهَلْ لِلْمَرْأَةِ مَاءٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَأَنَّى يَأْتِي شَبَهُ الْخُوْلَةِ إِلَّا مِنْ ذَلِكَ، أَيُّ النُّطَفَتَيْنِ سَبَقَتْ إِلَى الرَّحِمِ غَلَبَتْ عَلَى الشَّبَهِ))سیدہ ام سلیمؓ، زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ کہ ہمسائی تھیں اور وہ ان کے پاس آتی رہتی تھیں، ایک دن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہوئے اور سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، اے ام سلیم! تو نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک عورتوں کو رسوا کر دیا ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا اور اگر ہم اپنے اشکالات کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر لیں تو یہ اس سے تو بہتر ہے کہ ان کے بارے میں ہم جاہل اور اندھے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہؓ سے فرمایا: بلکہ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، جی ہاں ام سلیم! جب ایسی عورت منی کا پانی محسوس کرے گی تو اس پر غسل ہو گا۔ سیدہ ام سلیمؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کا بھی پانی ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے، اس معاملے میں خواتین مردوں کی طرح ہیں۔