حدیث نمبر: 8473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ يَا أُبَيُّ فَالْتَفَتَ فَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ صَلَّى أُبَيٌّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَعَلَيْكَ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَيْ أُبَيُّ إِذْ دَعَوْتُكَ أَنْ تُجِيبَنِي قَالَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَسْتَ تَجِدُ فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنْ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ قَالَ بَلَى أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَا أَعُودُ قَالَ أَتُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ تَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ هَذَا الْبَابِ حَتَّى تَعْلَمَهَا قَالَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي يُحَدِّثُنِي وَأَنَا أَتَبَطَّأُ مَخَافَةَ أَنْ يَبْلُغَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ الْحَدِيثَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْبَابِ قُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي قَالَ فَكَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ أُمَّ الْقُرْآنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلَهَا وَإِنَّهَا لَلسَّبْعُ مِنَ الْمَثَانِي زَادَ فِي رِوَايَةٍ بِلَفْظٍ إِنَّهَا السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بلایا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر بلایا: اے ابی ! انہوں نے توجہ تو کی، لیکن جواب نہ دے سکے، پھر انھوں نے تخفیف کے ساتھ نماز مکمل کی اور بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! السلام علیک، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر سلامتی ہو، اے ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو آنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہاتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ وحی نہیں سنی {اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} … اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیّک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم پسند کرو گے کہ میں تمہیں وہ سورت سکھاؤں کہ اس جیسی سورت نہ تو تورات میں نازل ہوئی ہے، نہ زبور میں، نہ انجیل اور نہ قرآن مجید میں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ضرورسکھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں تم اس دروازہ سے باہر نہ جاؤ گے کہ تم کو وہ سکھلا دوں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے باتیں کرنا شروع کر دیں، میں اس خوف سے آہستہ آستہ چل رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ باتیں ختم ہونے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر پہنچ جائیں، پھر جب ہم دروازے کے قریب ہوئے تومیں نے کہہ دیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کونسی سورت ہے، جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ میں نے جواباً سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ تعالیٰ نے اس جیسی سورت نہ تورات میں نازل میں کی، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ قرآن مجید میں۔یہی وہ سات دہرائی جانے والی آیات ہیں اور یہی قرآن عظیم ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سورۂ فاتحہ کی بڑی فضیلت کے ساتھ ساتھ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا ایک تقاضا بیان کیا گیا ہے کہ نماز کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلاوے کی آواز آ جائے تو نماز کو ترک کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نداء پر لبیک کہنا ہے، سبحان اللہ۔دنیا میں سب سے زیادہ تلاوت سورۂ فاتحہ کی کی جاتی ہے، بلکہ ہر آدمی اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اور بار بار اس سورت کی تلاوت کرتا ہے، لیکن اللہ تعالی کے کلام کا کیا کمال ہے کہ مجال ہے کوئی بوریت اور اکتاہٹ محسوس ہو۔ اس حدیث کے آخر میں اور اگلی احادیث میں قرآن مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: {وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ۔} … اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھے بار بار دھرائی جانے والی سات آیتیں اور بہت عظمت والا قرآن عطا کیا ہے۔ (سورۂ حجر: ۸۷)
آیات کے سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو اللہ تعالییہ فرمانا چاہتے ہیں: اے نبی!ہم نے جب قرآن مجید اور خاص طور پر سورۂ فاتحہ جیسی لازوال دولت تجھے عنایت فرما رکھی ہے تو تجھے نہیں چاہئے کہ کافروں کے دنیوی مال و متاع اور ٹھاٹھ باٹھ کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے،یہ تو سب فانی ہے اور صرف ان کی آزمائش کے لئے چند روزہ انہیں عطا ہوا ہے، ساتھ ہی تجھے ان کے ایمان نہ لانے پر صدمے اور افسوس کی بھی چنداں ضرورت نہیں، ہاں تجھے چاہئے کہ نرمی، خوش خلقی، تواضع اور ملنساری کے ساتھ مومنوں سے پیش آتا رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول / حدیث: 8473
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 2875، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9334»