الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَسْمَلَةِ قَبْلَ الْقِرَانَةِ وَفَضْلِهَا باب: قرات سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رِدْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ رِدْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَهُ خَلْفَهُ عَلَى ظَهْرِ الدَّابَّةِ فَعَثَرَتْ بِهِ دَابَّتُهُ فَقَالَ تَعِسَ الشَّيْطَانُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّهُ يَتَعَاظَمُ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الْجَبَلِ وَيَقُولُ بِقُوَّتِي صَرَعْتُهُ وَإِذَا قُلْتَ بِسْمِ اللَّهِ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّبَابِ۔ ابو تمیمہ ہجیمی سے مروی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ردیف سے بیان کرتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، اچانک جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری پھسلی تو اس نے کہا: شیطان کا ستیاناس ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ کہو، اس طرح سے وہ خود کو بڑا سمجھتا ہے یہاں تک کہ وہ خوشی سے پھول کر پہاڑ جتناہو جاتا ہے اور کہتاہے میں نے اپنی قوت سے اسے گرا دیا ہے، لیکن جب تم بسم اللہ کہو گے تووہ چھوٹا ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ مکھی کے برابر ہو جاتا ہے۔
معلوم ہوا کہ اچانک پہنچنے والی تکلیف پر ہائے ہائے، ہائے میری مائے، اوہو، او تیرا بھلا جیسے بے معنی الفاظ کی بجائے بسم اللہ کہنا چاہیے، مثلا زخم لگنا، گر جانا، کسی حادثے سے بچنے کے لیے گاڑی کی فوراً بریک لگانا، وغیرہ۔