الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
بَابٌ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى مَنِ احْتَلَمَ إِذَا أَنْزَلَ باب: احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا، قَالَ: ((يَغْتَسِلُ)) وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا يَرَى بَلَلًا، قَالَ: ((لَا غُسْلَ عَلَيْهِ)) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِسیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو منی کی تری تو پاتا ہے، لیکن اسے احتلام یاد نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غسل کرے گا۔ پھر اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس کا یہ خیال ہے کہ اسے احتلام تو ہوا ہے، لیکن وہ تری کو نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر کوئی غسل نہیں ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اگر عورت کو اسی قسم کا خواب آئے، تو کیا اس کا بھی یہی حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، عورتیں مردوں کی مانند ہی ہیں۔