الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَعِيْدِ مَنْ جَادَلَ بِالْقُرْآنِ أَوْ تَأَوَّلَهُ أَوْ قَالَ فِيهِ بِرَابِهِ مِنْ غَيْرِ عِلْمٍ باب: قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8464
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ قَالَ يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَيَبْدُونَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت کی ہلاکت کا باعث کتاب اور دودھ ہے لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! کتاب اور دودھ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: لوگ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کریں گے اور جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اتارا ہے اس کے علاوہ غلط تاویلیں کریں گے اورجانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو کر دیہاتوں میں چلے جائیں گے اورجماعت اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے میں جن لوگوں سے بچنے کا حکم دیا جا رہا ہے، اس سے مراد مذکورہ بالا آیت میں مذکور یہ لوگ ہیں: {فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ} … پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے۔ مسلمانوں کے چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھیں اور ان کی طرف توجہ نہ دھریں۔ مُحْکَمات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوامر و نواہی، احکام و مسائل اور قصص و حکایات ہیں، جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا، اس کے برعکس مُتَشَابِھَات ہیں، مثلا اللہ تعالی کی ہستی، قضا وقدر کے مسائل، جنت و دوزخ، ملائکہ وغیرہ،یعنی ما ورا عقل حقائق، جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اسی لیے آگے کہا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ آیات متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے فتنے برپا کرتے ہیں، جیسے عیسائی ہیں، قرآن نے عیسیٰ علیہ السلام کو عبد اللہ اور نبی کہا ہے، یہ واضح اور محکم بات ہے، لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم میں عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جو کہا گیا ہے، اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدلال کرتے ہیں، وہ انہی مُتَشَابِھات کو بنیاد بناتے ہیں، ان کے برعکس صحیح العقیدہ مسلمان محکمات پر عمل کرتا ہے اور مُتَشَابِھات کے مفہوم کو بھی محکمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔