حدیث نمبر: 8451
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلِيٌّ أَقْضَانَا وَأُبَيٌّ أَقْرَؤُنَا وَإِنَّا لَنَدَعُ كَثِيرًا مِنْ لَحْنِ أُبَيٍّ وَأُبَيٌّ يَقُولُ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ أَخَذْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ لِشَيْءٍ وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا [سورة البقرة: ١٠٦] ¤ (8451م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْضَانَا وَأُبَيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْرَؤُنَا وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَيٍّ شَيْئًا وَإِنَّ أُبَيًّا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ وَأُبَيٌّ يَقُولُ لَا أَدَعُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ بَعْدَ أُبَيٍّ كِتَابٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قضا و عدالت کے ماہر ہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم ان کی قراء ت کی کئی آیات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں (کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں)، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں، سو میں ان کو کسی چیز کی بنا پر نہیں چھوڑوں گا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا} … جو آیت ہم منسوخ کریں یا ترک کر دیں تو ہم اس سے بہتر لے آتے ہیں یا اس کی مثل لے آتے ہیں۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا، جبکہ وہ منبر نبوی پر تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قضا و عدل کے ماہرہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی تلاوت کردہ بعض آیات کو چھوڑ دیتے ہیں، بیشک سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، حالانکہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بعد بھی قرآن مجید کا بعض حصہ نازل ہوتا رہا (جس سے پہلے والا نازل شدہ بعض حصہ منسوخ ہوتا رہا)۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سماع کے بعد بھی قرآن مجید کا ایسا حصہ یا حکم نازل ہوا، جس نے ان کی سنی ہوئی چیز کو منسوخ کر دیا تھا، لیکن ان کو اس کا علم نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8451
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4481، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21400»