الفتح الربانی
أبواب كيفية نزول القرآن— نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب
بَابُ مُعَارَضَةِ جِبْرِيلَ وَالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِلْقُرآن باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ أَخِيرًا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ قُلْنَا قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جَبْرَائِيلَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَكَانَتْ آخِرَ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: دو قراء توں میں سے آخری قراء ت کونسی تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کییا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ مجاہد کہتے ہیں: ہم نے کہا: سیدنا زید رضی اللہ عنہ والی آخری ہے، انہوں ! بعض نسخوں میں اِلَّا نہیں ہے اور ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا ہے۔ نے کہا: نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام پر ہر سال قرآن مجید پیش کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر قرآن مجید دو بار پیش کیا اور آخری قرات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی تھی۔
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلَ قَالُوا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ هِيَ الْآخِرَةُ كَانَ يُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فَشَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم دو قراء توں میں سے کونسی قرات پہلی شمار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ والی قراء ت؟ انھوں نے کہا: بلکہ یہ آخری ہے، ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بار قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال دو بار پیش کیا گیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس پیشی کے وقت حاضر تھے، سو انھوں نے جان لیا کہ قرآن مجید کا کونسا حصہ منسوخ ہوا اور کونسا تبدیل ہوا ہے۔