حدیث نمبر: 8443
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ وَلَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ایک قراء ت پڑھائی، میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ قرائتیں زیادہ کی جائیں اور وہ زیادہ کرتے، یہاں تک کہ معاملہ سات قراء توں تک پہنچ گیا۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: قراء توں کا یہ اختلاف حقیقت میں ایک ہی معاملے کے بارے میں ہے، اس سے حلال و حرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8443
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3219، 4991، ومسلم: 819 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2375»