حدیث نمبر: 8437
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَهَا جَاءَ فِي رِوَايَةٍ وَقَرَأَ رَجُلٌ خِلَافَهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ بَلَى فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَلَمْ تُقْرِئْنِيهَا كَذَا وَكَذَا فَقَالَ بَلَى كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فَضَرَبَ صَدْرِي فَقَالَ يَا أُبَيُّ بْنَ كَعْبٍ إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ فَقِيلَ لِي عَلَى حَرْفٍ أَوْ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى حَرْفَيْنِ فَقُلْتُ عَلَى حَرْفَيْنِ فَقَالَ عَلَى حَرْفَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى ثَلَاثَةٍ فَقُلْتُ عَلَى ثَلَاثَةٍ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ إِنْ قُلْتَ غَفُورًا رَحِيمًا أَوْ قُلْتَ سَمِيعًا عَلِيمًا أَوْ عَلِيمًا سَمِيعًا فَاللَّهُ كَذَلِكَ مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ بَعْدَ قَوْلِهِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْ أُبَيٍّ الشَّكَّ فَفِضْتُ عَرَقًا وَامْتَلَأَ جَوْفِي فَرَقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أُبَيُّ إِنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْرَأْ عَلَى حَرْفٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى ثَلَاثَةٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى أَرْبَعَةِ أَحْرُفٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ قُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى خَمْسَةِ أَحْرُفٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ قُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى سِتَّةٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آیت پڑھی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی آیت پڑھی، لیکن ان کی آیت میری آیت سے مختلف تھی، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نے مجھے فلاں فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے مجھے یہ ایسے ایسے نہیں پڑھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے درست پڑھا ہے۔ میں (ابی) نے کہا: دونوں کس طرح درست ہو سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا اور کہا گیا کہ ایک یادو قراء توں پر؟ جو فرشتہ میرے ساتھ تھا، اس نے کہا: دو قراء توں پر، میں نے کہا: دو قراءتوں پر۔ لیکن اس نے پھر کہا: دو قراء توں پر یا تین پر؟ جو فرشتہ میرے پاس تھا، اس نے کہا: تین قراء توں پر، میں نے کہا: تین قراء توں پر، حتیٰ کہ سات قراء توں تک پہنچ گئے، ہر ایک تسلی بخش اور کفایت کرنے والی ہے، اگر تم کہو غَفُورًا رَحِیمًا،یا کہو سَمِیعًا عَلِیمًا،یا کہو عَلِیمًا سَمِیعًا، پس اللہ تعالیٰ تو ایسے ہی ہے نا۔ ایک روایت میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینہ پر مارا اور فرمایا: اے اللہ ! ابی سے شک دور کر دے۔ ابی کہتے ہیں: میں پسینہ سے شرابور ہوگیا اور میرا پیٹ خوف سے بھر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابی! دو فرشتے میرے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ایک قراء ت پر قرآن پڑھو، دوسرے نے کہا: زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: زیادہ کردو، اس نے کہا چار قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: میرے لئے اور اضافہ کرو، اس نے کہا: پانچ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کر دو۔ میں نے بھی کہا: اور زیادہ کردو۔ چھ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور اضافہ کردو، اس نے کہا: سات قراء توں پر پڑھ لو۔

وضاحت:
فوائد: … یہ دو فرشتے جبریل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب كيفية نزول القرآن / حدیث: 8437
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابوداود: 1477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21467»