الفتح الربانی
بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها— مفصل قراء ات اور اس میں صحابہ کے اختلاف کا بیان
بابُ وَقْتِ نُزُولِ الْقُرْآنِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْكُتُبِ لسَّمَاوِيَّةِ وَخَوْفِ الصَّحَابَةِ مِنْ نُزُولِ الْقُرْآنِ فِيْهِمْ باب: قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
حدیث نمبر: 8432
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نَتَّقِي كَثِيرًا مِنَ الْكَلَامِ وَالِانْبِسَاطِ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا الْقُرْآنُ فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیویوں سے زیادہ باتیں کرنے اور زیادہ کھل کر ہنسنے سے گریز کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو تب ہم کھل کر بات کرنے لگے۔
وضاحت:
فوائد: … بعض صحابہ کرام کے گھریلو مسائل کی وجہ سے قرآن مجید کے بعض حصے نازل ہوئے، اس لیے دوسرے صحابہ محتاط ہو گئے۔