حدیث نمبر: 8432
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نَتَّقِي كَثِيرًا مِنَ الْكَلَامِ وَالِانْبِسَاطِ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا الْقُرْآنُ فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیویوں سے زیادہ باتیں کرنے اور زیادہ کھل کر ہنسنے سے گریز کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو تب ہم کھل کر بات کرنے لگے۔

وضاحت:
فوائد: … بعض صحابہ کرام کے گھریلو مسائل کی وجہ سے قرآن مجید کے بعض حصے نازل ہوئے، اس لیے دوسرے صحابہ محتاط ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها / حدیث: 8432
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5187 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5284»