الفتح الربانی
بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها— مفصل قراء ات اور اس میں صحابہ کے اختلاف کا بیان
مَا جَاءَ فِي سُورَةِ مُحَمَّدٍ باب: سورۂ محمد کی قراء ت کا بیان
عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ بَنِي بُجَيْلَةَ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ أَيَاءً تَجِدُهَا أَوْ أَلِفًا مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ وَكُلُّ الْقُرْآنِ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذِهِ قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ الصَّلَاةِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَلَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَكِنَّهُ إِذَا قَرَأَهُ فَرَسَخَ فِي الْقَلْبِ نَفَعَ إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ قَالَ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَجَاءَ عَلْقَمَةُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ سَلْهُ عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ قَالَ فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ۔ شفیق بن عبداللہ کہتے ہیں: بنو بجیلہ قبیلے کا ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اس آیت کو آپ کس طرح پڑھتے ہیں،یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ}؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اس کے علاوہ تو نے سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں دو رکعت نماز میں مفصل سورتیں پڑھتا ہوں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو، بہترین نماز وہ ہے، جس میں رکوع و سجود اچھے انداز میں کئے جائیں،کچھ لوگ قرآن تو پڑھیں گے، مگر وہ ان کی ہنسلیوں کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب آدمی قرآن پڑھتا اور وہ اس کے دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو تب قرآن فائدہ دیتا ہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو پہچانتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن میں سے دو دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے، اتنے میں علقمہ آئے اور وہ بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے، ہم نے علقمہ سے کہا: ان سے ان ملتی جلتی سورتوں کے بارے میں دریافت کرو، جن میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو سورتیں پڑھا کرتے تھے، پس علقمہ ان کے پاس گئے اور پھر ہمارے پاس آ کر کہا: مفصل کی ابتدائی بیس سورتیں،یہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف ِ قرآن کے مطابق تھا۔
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ زِرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَيْفَ تَعْرِفُ هَذَا الْحَرْفَ مَاءٌ غَيْرِ يَاسِنٍ أَمْ آسِنٍ فَقَالَ كُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ قَرَأْتَ قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ أَجْمَعَ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَالَ أَهَذًّا الشِّعْرِ لَا أَبَا لَكَ قَدْ عَلِمْتُ قَرَائِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يَقْرِنُ قَرِينَتَيْنِ قَرِينَتَيْنِ مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ وَكَانَ أَوَّلُ مُفَصَّلِ ابْنِ مَسْعُودٍ الرَّحْمَنُ۔ (دوسری سند) زرّ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کا اس قراء ت کے بارے میں کیا خیال ہے مائٍ غَیْرِ آسِن ہے یا یَاسِن ؟ آگے سے انھوں نے کہا: کیا تو نے اس کے علاوہ سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں تمام مفصل سورتیں ایک ر کعت میں پڑھتا ہوں، انھوں نے کہا: کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی، تیرا باپ نہ رہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو جانتا ہوں،جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو سورتیں کر کے پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفصل کی ابتداء سے شروع کر تے تھے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں پہلی مفصل سورت رحمن تھی۔