الفتح الربانی
بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها— مفصل قراء ات اور اس میں صحابہ کے اختلاف کا بیان
مَا جَاءَ فِي سُوْرَةِ الفُرْقَانِ باب: سورۂ فرقان کی قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 8422
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عُمَرُ إِنَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ صَوَابٌ مَا لَمْ يُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَةً أَوْ مَغْفِرَةٌ عَذَابًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس کے آخر میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! قرآن مجید سارے کا سارا درست ہے، جب تک کہ عذاب کی جگہ مغفرت کا اور مغفرت کی جگہ عذاب کا لفظ نہ بولا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حق کے معاملے میںانتہائی محتاط تھے، اس لیے جب انھیںیہ گمان ہوا کہ یہ آدمی قرآن کی تلاوت صحیح نہیں کر رہا تو انھوں نے اس پر سختی کی۔