الفتح الربانی
أبواب جواز اختلاف القراءات والنهي عن الجدال فيها— قراء ات، ان میں اختلاف کا جواز اور ان کے بارے میں جھگڑنے سے ممانعت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ مِنْ ذلِكَ عَامَّا وَاخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فيه باب: قراء توں کے بارے میں عام روایات اور اس مسئلہ میں صحابہ کے اختلاف کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ جَلَسْتُ أَنَا وَأَخِي مَجْلِسًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ أَقْبَلْتُ أَنَا وَأَخِي وَإِذَا مَشْيَخَةٌ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ عِنْدَ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ فَجَلَسْنَا حَجْرَةً إِذْ ذَكَرُوا آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَتَمَارَوْا فِيهَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ يَرْمِيهِمْ بِالتُّرَابِ وَيَقُولُ مَهْلًا يَا قَوْمِ بِهَذَا أُهْلِكَتِ الْأُمَمُ مِنْ قَبْلِكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ وَضَرْبِهِمُ الْكُتُبَ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ يَنْزِلْ يُكَذِّبُ بَعْضُهُ بَعْضًا بَلْ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بِهِ وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص علیہ السلام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے اور میرے بھائی کے مابین ایک مجلس ہوئی، اس میں بیٹھنامیرے لئے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے، تفصیل یہ ہے کہ میں اور میرا بھائی آئے اور بزرگ صحابہ کی ایک جماعت کو پایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے ان میں تفریق ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور ایک کونے میں بیٹھ گئے، انہوں نے ایک آیت کا ذکر کیااور پھر اس میں جھگڑا کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آ گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان صحابہ پر مٹی پھینکی اور فرمایا: لوگو! رک جاؤ، تم میں سے پہلے والی امتیں اسی اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں،انہوں نے اپنے انبیاء پر اختلاف کیا اور کتاب کے بعض حصے کو بعض سے ٹکرایا، بیشک قرآن مجید اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا بعض بعض کی تکذیب کر رہا ہو، بلکہ اس کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، پس جس حصے کا تمہیں علم ہو جائے، اس پر عمل کرو اور جس حصے کا علم نہ ہو سکے، اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کر دو۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابن عبد البر نے سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد کہا: اس کا معنییہ ہے کہ دو افراد ایک آیت کے بارے میں مجادلانہ گفتگو کریں، نتیجتاً ایک اس کا انکار کر دے، یا اس کو ردّ کرے یا اس کے بارے میں شک میں پڑ جائے۔ ایسا جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (صحیحہ: ۳۴۴۷)
ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جھگڑنے سے مراد ایک دوسرے کا ردّ کرنا ہے، مثلا ایک آدمی ایک آیت سے ایک استدلال پیش کرتا ہے، جبکہ دوسرا آدمی کسی دوسری آیت سے اس کے الٹ استدلال کر کے اس پر ٹوٹ پڑتا ہے، حالانکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے کو چاہیے کہ ایسی آیات میں جمع و تطبیق کی کوئی صورت پیدا کرے، تاکہ یہ نقطہ واضح ہو جائے کہ قرآن کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، اگر وہ مختلف آیات میں توافق نہ دے سکے تو اس کو اپنی سمجھ کی کوتاہی سمجھے اور ان آیات کو اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر دے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَئْیٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ} (سورۂ نسائ: ۵۹) پھر انھوں نے ایک مثال دی: ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ کُلُّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ} … کہہ دیجئے کہ ہر چیز اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ جبکہ دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَمَا اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ} (سورۂ نسائ: ۹۷) تجھے جو بھلائی ملتی ہے، وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، اور جو برائی پہنچتی ہے تو وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔
تناقض: … پہلی آیت میں ہر چیز کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کیا گیا اور دوسری آیت میں برائی کو بندے کی طرف منسوب کیا گیا۔ (اگر دوسری آیات، احادیث اور اجماعِ امت کو دیکھا جائے تو سب سے بہترین جمع و تطبیقیہ ہے کہ برائی بھی اللہ تعالی کی مشیت سے ہوتی ہے، لیکنیہ برائی نفس کے گناہ کی عقوبت یا اس کا بدلہ ہوتی ہے، اس لیے اس کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا،یعنییہ نفس کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ} (سورۂ شوری: ۳۰) تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے، اوربہت سے گناہ تو (اللہ) معاف ہی فرما دیتا ہے۔) لیکن اگر تقدیر کا منکر اس بات پر ڈٹ جائے کہ برائی کا خالق انسان خود ہے اور اس قسم کی آیات کو انکارِ تقدیر پر بطورِ دلیل پیش کرے، تو یہی مجادلہ ہو گا، جس سے منع کیا گیا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱/ ۴۹۳، مفہوم لکھا گیا، بریکٹ والا پیراگراف راقم الحروف کی طرف سے لکھا گیا)
اگر کوئی مسلمان بعض آیات کو نہ سمجھ پا رہا ہو تو وہ درج ذیل حدیث کو مدنظر رکھے۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ قرآن میں اختلاف کر رہے تھے اور ایک دوسرے کا ردّ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِھٰذَا: ضَرَبُوْا کِتَابَ اللّٰہِ بَعْضَہٗبِبَعْضٍ،وَاِنَّمَانَزَلَکِتَابُاللّٰہِیُصَدِّقُ بَعْضُہٗبَعْضًا،فَلَاتُکَذِّبُوْابَعْضَہٗبِبَعْضٍ،فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْہُ فَقُوْلُوْا، وَمَا جَھِلْتُمْ فَکِلُوْہُ اِلٰی عَالِمِہٖ۔)) … تمسے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ وہ کتاب اللہ کے بعض حصے کو اس کے دوسرے حصے سے ٹکراتے تھے، حالانکہ اللہ تعالی کی کتاب اس طرح نازل ہوئی کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرتا ہے، پس تم اس کے بعض حصے کی وجہ سے اس کے بعض حصے کونہ جھٹلاؤ۔ جتنا تم جان لو وہ بیان کرو، اور جو نہ جان سکو اس کو اس کے عالم کی طرف سپرد کر دو۔ (احمد: ۶۷۴۱، ابن ماجہ)